بنا[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نیو، بنیاد، پایہ۔  یہ کون سے زنداں کی گرائی گئی دیوار یہ کونسی تعمیر کی اٹھتی ہیں بنائیں      ( ١٩٥٨ء، تارپیراہن، ٥٨ ) ٢ - وجہ، سبب، باعث۔ "کوئی ایسا زمانہ نہیں گزرا کہ . ہم میں اور ان میں کوئی بناے مخاصمت قائم ہوئی ہو"    ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٥٠:٢ ) ٣ - اصل حقیقت۔ "میں آسمان پر جاؤں گی میں اس سے سب حال وہاں کا پوچھوں گی کہ آسمان پر کون رہتا ہے . تاروں کی کیا بنا ہے ہمارا ستارہ کس برج میں ہے"    ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٢١:٣ ) ٤ - آغاز، ابتداء۔  یہ سوچتا ہوں بنا ان رسوم رسوا کی مذاق برہمنی تھا کہ شوق بتا شکنی      ( ١٩٥٨ء، تارپیراہن، ١٦١ ) ٥ - عمارت، مکان۔ "مغل بناؤں کی محرابوں میں جو پیچ و خم نکالے گئے، ان کی بظاہر منڈو میں کوئی کوشش نہیں کی گئی۔"      ( ١٩٣٢ء، اسلام فن تعمیر، ٨٥ ) ٦ - قائم یا تعمیر کیے جانے کا عمل۔ "ان عمارتوں کا سنہ بنا کافی صحت کے ساتھ ان کتبات سے معلوم ہو جاتا ہے جو ان پر کندہ ہیں۔      ( ١٩٣٢ء، اسلام فن تعمیر، ٢٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے مشتق ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے ١٦٣٨ء میں "چندر بدن و مہیار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - وجہ، سبب، باعث۔ "کوئی ایسا زمانہ نہیں گزرا کہ . ہم میں اور ان میں کوئی بناے مخاصمت قائم ہوئی ہو"    ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٥٠:٢ ) ٣ - اصل حقیقت۔ "میں آسمان پر جاؤں گی میں اس سے سب حال وہاں کا پوچھوں گی کہ آسمان پر کون رہتا ہے . تاروں کی کیا بنا ہے ہمارا ستارہ کس برج میں ہے"    ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٢١:٣ ) ٥ - عمارت، مکان۔ "مغل بناؤں کی محرابوں میں جو پیچ و خم نکالے گئے، ان کی بظاہر منڈو میں کوئی کوشش نہیں کی گئی۔"      ( ١٩٣٢ء، اسلام فن تعمیر، ٨٥ ) ٦ - قائم یا تعمیر کیے جانے کا عمل۔ "ان عمارتوں کا سنہ بنا کافی صحت کے ساتھ ان کتبات سے معلوم ہو جاتا ہے جو ان پر کندہ ہیں۔      ( ١٩٣٢ء، اسلام فن تعمیر، ٢٩ )

اصل لفظ: بنی
جنس: مؤنث